Saturday, 9 April 2016

پاناما پیپرز اور ایک بے خبر "ذمہ وار"


یہ بات اب ایک مسلمہ حقیقت بنتی جا رہی ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ کی کلرسیداں میں بیٹھ کر ملکی امور پر کی ہوئی گفتگو ہمیشہ ان کے گلے ہی پڑی ہے، اسکی وجہ شاید یہ ہے کہ وہ کلرسیداں کے لوگوں کو "اپنے" لوگ کہتے ہیں اور آدمی جب اپنوں میں بیٹھتا ہے تو بات کھٌل کر ہوتی ہے ۔ جمعرات دن 11 بجے کے قریب وزیر صاحب کلرسیداں میں جلوہ افروز ہوئے جہاں ہر بار کی طرح اس بار بھی عوام ایک کثیر تعداد میں انھیں سننے، اور اپنے مسائل کے حل کی امید لئے، انکے انتظار میں بیٹھے تھے ۔ پروگرام کا ڈیکورم وزیر صاحب کے ہر دورے پر منعقد کیے جانے والے پروگرام جیسا ہی تھا: وزیر صاحب کی آمد، ان پر پھولوں کی بارش، لیگی کارکنوں کا اپنے پیارے قائد کے ساتھ تصاویر اتروانے کی خاطر جہاد اور جواباً وزیر صاحب کی بےرخی، وزیر صاحب کی طرف سے چند ترقیاتی منصوبوں کا اعلان اور رخصتی سے قبل ملکی سطح پر زیر بحث کسی اہم قومی ایشو پر ایک بےلاگ تبصرہ جو چند ہی گھنٹوں میں ٹیلیوژن اسکرینوں پر بطور بریکنگ نیوز نشر ہو جاتا ہے ۔ ۔ البتہ اس بار لیگی کارکنوں کی طرف سے پھینکے گئے پھول اتنی وافر مقدار میں تھے کہ جتنی وافر مقدار میں آپکو اس ملک میں "تجزیہ نگار" مل جاتے ہیں اور وزیر صاحب کے اس بار والے تبصرے نے جہاں ہر بار کی طرح انکی حکومت پر بہت سے سوالات اٹھائے ہیں وہیں بطور وزیر داخلہ انکی قابلیت پر بھی انگلی کھڑی کر دی ہے ۔
آجکل دنیا کے سیاسی منظرنامے پر جس ایشو نے ہلچل مچا رکھی ہے وہ "پاناما پیپرز" کا معاملہ ہے ۔ ان پیپرز کا مختصر تعارف یہ ہے کہ یہ ایک جرمن اخبار کی شائع کردہ ایک دستاویز ہے جس میں دنیا کے معروف لوگوں کی طرف سے پانامہ نامی جزیرے کے بینکوں میں "چھپائے" جانے والی دولت کی معلومات درج ہیں ۔ پاکستان کے بھی کئی معروف ناموں کا تذکرہ اس میں ملتا ہے جن میں سب سے نمایاں وزیر اعظم پاکستان کے بچوں کے نام ہیں ۔ چونکہ اس دستاویز پر ابھی تک دنیا کے کسی کونے سے کسی بھی مذکورہ شخصیت نے عدم اعتماد کا اظہار نہیں کیا چناچہ اس دستاویز کو قابل اعتماد ہی سمجھا جا رہا ہے ۔ سوائے سابق پاکستانی وزیر داخلہ رحمن ملک کے جن نے اسے بھارت کی سازش قرار دے دیا ہے یا مولوی فضل الرحمن کے جنکو یہ وزیر اعظم صاحب کے خلاف ایک "عالمی سازش" معلوم ہوتی ہے ۔ ماں صدقے! ۔ گو وزیر اعظم یا انکی اہلیہ کا نام اس دستاویز میں نہیں ہے مگر اس ضمن میں تحقیقات ہونا انتہائی ضروری ہیں ۔ اس کے لئے وزیر اعظم پاکستان نے ایک عدد جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کیا ہے ۔ باقی دنیا کی طرح پاکستانی حزب اختلاف کی جماعتیں بھی اس ایشو پر سیاست کر رہی ہیں جس میں عمران خان صاحب پیش پیش ہیں  ۔ تقریبا تمام سیاسی جماعتوں نے وزیر اعظم کی طرف سے کسی ریٹائرڈ جج کی صدارت میں کمیشن کے قیام کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس پر جمعرات کے روز وزیر داخلہ صاحب نے کلرسیداں دورے کے دوران عمران خان کو مخاطب کر کے یہ پیشکش کی ہے کہ آپ وزارت داخلہ کے ماتحت کام کرنے والے جس افسر کا نام لیں گے تحقیقات کی ذمہ داری اسی افسر کو سونپ دی جائے گی ۔
منقول ہے کہ ڈپٹی نذیر احمد دہلوی کے پاس عربی کی ایک نایاب کتاب تھی ۔ دلی کے ایک مولوی صاحب اس کتاب کو دیکھنے کے شائق تھے ۔ تعلقات ایسے تھے کہ ڈپٹی صاحب نہ تو کتاب دینا چاہتے تھے اور نہ ہی انکار کر سکتے تھے مگر مولوی صاحب کے اسرار پر انہیں کتاب دینا پڑی ۔ ڈپٹی صاحب کو اور تو کچھ نہ سوجھی بس کتاب مولوی صاحب کی طرف بڑھاتے ہوئے فرما دیئے کہ "کتاب ہے تو بہت اچھی مگر اسکی جلد سؤر کے چمڑے سے تیار شدہ ہے" ۔ مولوی صاحب ایک چھلانگ لگا کر پیچھے ہٹے اور لا حول ولا پڑھ کر اپنے گھر کی طرف ہو لئے ۔ وزیر صاحب نے عمران خان کی تشویش کا جو حل پیش کیا ہے اسے وہ قبول تو کسی صورت نہیں کریں گے ہاں البتہ وہ لا حول ولا پڑھ کر اپنے گھر کی طرف بھی نہیں چل دیں گے بلکہ رائیونڈ محل کی طرف اپنے ممکنہ سفر کے ارادے پر ضرور ڈٹ جائیں گے ۔
اسلام آباد اور کلرسیداں میں بیک وقت موجود ہمارے (موکل نما) ذرائع کے مطابق جس وقت وزیر صاحب کلرسیداں کے نجی اسکول میں بیٹھ کر عمران خان کو اپنی تجویز پیش کر رہے تھے عین اسی وقت پارلیمنٹ کی بلڈنگ چیخ چیخ کر یہ سوال کر رہی تھی کہ "مینوں کادے لئی بنایا جے؟" ۔ چودھری صاحب کی کلرسیداں میں کی گئی گفتگو کے بعد ملک کی باقی سیاسی جماعتیں یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہونگی کہ اگر عالمی سطح کے ایشو سے متعلق فیصلے پریس کانفرنسوں کے ذریعے ہی کرنے ہیں تو پھر پارلمنٹ کس کام کی؟ اس سے باقی تین صوبوں کی سیاسی جماعتوں کے اس دعوے کو بھی تقویت ملے گی کہ نون لیگ کی حکومت ایک پنجابی حکومت ہے جسکی نظر میں پارلیمنٹ کی حیثییت ایک ڈیبیٹنگ کلب جتنی بھی نہیں۔
ایک صحافی کی طرف سے کئے گئے "آف شور کمپنیوں کے متعلق سوال پر وزیر صاحب گویا ہوئے کہ "مجھے تو کچھ علم نہیں کہ یہ آفشور کمپنی کیا بلا ہوتی ہے" ۔ ہمارے خیال میں وزیر داخلہ صاحب جہاں ہر محکمہ کے افسران اپنے ساتھ لے کر گھومتے ہیں وہیں انہیں چاہئے کہ وزارت داخلہ کے "لیگل ڈپارٹمنٹ" کا بھی کوئی افسر ایسے مواقع پر اپنے ساتھ رکھیں جو انہیں وقتا فوقتا یہ یاد دلاتا رہے کہ بطور وزیر داخلہ پاکستان انکی "ذمہ واریاں" کیا کیا ہیں ۔ انگریزی کا ایک مقولہ ہے:
"Ignorance is not a sin but wearing it as a medal of pride sure is"
(بیوقوفی کوئی جرم نہیں البتہ اس پر فخر کرنا ضرور ایک جرم ہے)

وزارت داخلہ پاکستان کا منصب ملکی سیکیورٹی کے حوالے سے وزارت عظمی کے بعد پاکستان کا سب سے اہم عہدہ ہے ۔ ہمارے وزیر صاحب اس وقت ضرب عضب کے لئے فوج اور سولین حکومت کی جانب سے مقرر کردہ متفقہ "فوکل پرسن" بھی ہوئے ہیں ۔ ضرب عضب کا ایک بڑا ہدف ملک سے منی لانڈرنگ کا خاتمہ اور اس جرم میں ملوث افراد کو پکڑنا بھی ہے ۔ وزیر صاحب کی گفتگو نے جہاں انکی اپنی حکومت کو مشکل میں ڈال دیا ہے وہیں انکے مذکورہ بالا اعتراف نے بطور وزیر داخلہ انکی قابلیت پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دئے ہیں